Callback_inner_ur
Live_support-inner_ur
قیمت & نرخ
حدف قیمت وقت
EURUSD 1.2727 10/Sep 12:45 PM
GBPUSD 1.5442 10/Sep 12:45 PM
USDCHF 1.0233 10/Sep 12:45 PM
USDJPY 83.92 10/Sep 12:45 PM
AUDUSD 0.924 10/Sep 12:45 PM
USDCAD 1.0315 10/Sep 12:45 PM
NZDUSD 0.7257 10/Sep 12:45 PM
GBPCAD 1.5928 10/Sep 12:45 PM
GBPCHF 1.5806 10/Sep 12:45 PM
EURJPY 106.81 10/Sep 12:45 PM
EURGBP 0.824 10/Sep 12:45 PM
EURCHF 1.3028 10/Sep 12:45 PM
XAUUSD 1248.5 10/Sep 12:45 PM
XAGUSD 19.84 10/Sep 12:45 PM
مزید معلومات
ریگولیٹری ماحول
پرنٹ Send to Friend

ریاست کویت خلیج عرب ﴿ خلیج فارس ﴾ کے شمال مغربی کنارے میں زیادہ تر سپات صحراء کے تقریبا 17،818 مربع کیلومیٹر کے علاقہ میں پھیلا ہوا ہے۔ کویت کے جنوبی اور جنوب مغربی کنارے پر سعودی عرب ہے اور شمالی اور شمال مغربی کنارے پر عراق ہے۔ مشرق میں ایران، خلیج عرب تک پھیلا ہوا ہے۔

کویت کے پاس دنیا میں چوتھے نمبر پر سب سے زیادہ خام تیل کا ذخیرہ ہے اور یہ سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والوں میں شامل ہے۔ جیسا کہ، کویت کی معیشت زیادہ تر تیل کے سیکٹر پر منحصر ہے جو کہ کل گھریلو پیداوار کا نصف سے زیادہ ہے۔

2006 میں کویت کی خام تیل کی پیداوار اوسطا تقریبا 2.5 میلین بیرل یومیہ ﴿ایم بی ڈی﴾، تقریبا زیادہ سے زیادہ پیداوار کی صلاحیت تھی۔ اگر چہ اوپیک کے ممبر کی حیثیت سے، کویت کو اپنی پیداوار دی ہوئی حد تک محدود رکھنی ہے، خصوصا جب تیل کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اس وقت تیل کی پیداوار اوپیک کے ہدف سے تھوار زیادہ ہوجاتی ہے۔

اس سیکٹر میں نمایاں سرمایہ کاری کے ساتھ آنے والے سالوں میں تیل کی پیداوار میں بڑی حد تک توسیع ارادہ ہے۔ خام تیل کی پیداوار کو 2010 تک موجودہ 2.5 ایم بی ڈی سے 3.5 ایم بی ڈی تک اور 2020 تک 4 ایم بی ڈی تک توسیع کا منصوبہ ہے۔ اس ہدف کو پانے کے لیے، حالیہ سالوں میں ذمہ داراران ایک جراٴت آمیز سرمایہ کاری کے پروگرام کو نافذ کر رہے ہیں۔

1505 بلین کویتی دینار ﴿55 بلین ڈالر﴾ آمدنی کا اعلان مالی سال 07/2006 میں ، جو مارچ 2007 میں ختم ہوا، کیا گیا تھا، سال گذشتہ سے % 12 زیادہ۔ کل کا % 94 سے زیادہ تیل کی آمدنی ہے۔ 2005 میں کویت می مجموعی گھریلو پیداوار﴿ جی ڈی پی﴾29.6 بلین کویتی دنیار ﴿103 بلین امریکی ڈالر﴾ تھی۔ 2006 میں % 21 معمولی اضافہ ہوا جو زیادہ تر تیزی سے تیل کی قیمت میں زیادتی کے سبب ہوا۔ گذشتہ پانچ سالوں سے جی ڈی پی کی نمو اوسطا % 23 ہے۔ 2005 میں جی ڈی پی میں حقیقی نمو % 10 تک پہنچ گیا، اور گذشتہ پانچ سالوں سے اوسط %7.9 ہے۔

کویت کی کرنسی کویتی دینار ﴿کے ڈی ﴾ ہے جو 1000 فلسز ﴿ 1کے ڈی = 1000 فلسزٰ﴾ میں منقسم ہے۔ کرنسی نوٹون کے نام ایک چوتھائی، ایک نصف، ایک، پانچ، دس اور بیس دینار ہیں، جبکہ سکوں کے نام پانچ، دس، بیس، بچاس اور ایک سو فلسز ہیں۔ 2003 کی ابتدا سے تقریبا ساڑھے چار سالوں سے، کویتی دینار کی قدر مبادلہ سرکاری طور پر ایک لچکدار میخ کا استعمال کرکے امرکی ڈالر کا مقابلہ کیا ہے۔ اس دور میں، مرکزی بینک کے ڈی / امریکی ڈالرکی قیمت کو % 7 کے بینڈ کے اندر تقریبا کے ڈی 0.29963 = امریکی ڈالر متعین کریگا ابتدائی قیمت معادلت 2003 کی شروعات میں متعین کی گئی تھی۔ اگرچہ کے بی سی بینڈ کے اندر یومیہ قیمت متعین کرنے کے لیے آزاد تھا، عام طور سے مرکزی بینک نے 2003 کے آخر سےایک لمبے وقفہ تک کے ڈی / امریکی ڈٓالر کی ایک متعین قیمت کوبرقرار رکھا۔ 2003 میں پالیسی کی تبدیلی 2010 تک جی سی سی واحد کرنسی اپنانے کی طرف ایک تمہیدی قدم تھا، کیونکہ چھ رکنی ریاستوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے باقاعدہ مقبلہ کرنے والا تنہا ملک تھا۔

بہر حال، مئی 2007 میں، سی بی کے نے اپی امریکی ڈالر کی میخ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور دینار کو بڑی کرینسیوں کے لیے سایہ بنانے کی غرض سے مستحکم کرنے کرنے کی جانب قدم اٹھایا۔ 2003 اس سے مشابہ نظام جو 2003 سے پہلے قائم تھا۔ اگرچہ نئے نظام کے تحت باسکیٹ کے اجزاء کو ظاہر نہیں کیا گیا تھا، امریکی ڈالر کو زیادہ وزنی مانا جاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ یورو، ین، بریطانوی پونڈ نمایاں طور پر کم وزنی ہیں۔ جولائی 2007 کے اختتام تک 0.282 کے ڈی/ امریکی ڈالر قیمت برقرار تھی۔ اقتصادی بینک مرکزی بینک کی قیمت کے حوالے سے اقتصادی اور مالیاتی لین دین کے لیے اپنی قیمت متعین کرتے ہیں۔ اگرچہ شائع کی ہوئی خوردہ قیمتیں تقریبا % 1 خریدنا اور بیچنا ظاہر کرتی ہیں، بڑی لین دین کے لیے بینک سے زیادہ مسابقاتی قیمتیں حاصل کرنا عام بات ہے۔

کویت میں گیارہ اقتصادی بینک ہیں جس میں چھ غیر ملکی بینکوں کی شاخیں شامل ہیں۔ تین اسلامی بینکنگ کے ادارے اور ایک خصوصی بینک ہے۔ مزید، چند سرمایہ کاری اور کرنسی ٹریڈنگ کمپنیاں ہیں جو کامرشیل کوڈ ﴿1980/68﴾ اور اس کی تبدیلی کے ماتحت اور وزارتی حکم نامہ نمبر 1992/113﴾ کے تحت کام کرتی ہیں جن میں ریکارڈ کے مطابق سب سے پہلے نمبر ایک ﴿1﴾ پر رجسٹر ہونے والا عرب فائنانشیل بروکرز تھا۔ 2006 کے اختتام تک علاقائی بینکوں کا اثاثہ کےڈی 27 بلین ﴿93 بلین امریکی ڈالر﴾ پہنچ گیا تھا، ایک سال سے % 25 کی نمو کے ساتھ۔ مجموعی شخصی ڈپازٹ کے ڈی 15.3 بلین ﴿ 53 بلین امریکی ڈالر﴾، % 22 تک۔

اسپاٹ زر مبادلہ کا بازار کویٹ میں بڑا ہے اور روزانہ دو دن کی تصفیہ کی بنیاد گراں قدررقوم میں معاہدہ کرنا ہمیشہ ممکن رہا ہے۔ شہریوں پر کوئی ایکسچیج کنٹرول نہیں ہے اور غیر ملکی کویت میں آزادی کے ساتھ غیرملکی کرنسیوں کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔ باشندوں غیر ملکی باشنوں کے لیے کسی بھی کرنسی میں کویت سے یا کویت میں ٹرانسفر کرنے پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔

زر مبادلہ کے آنے جانے پر کوئی کنٹرول یا اسرائیل کو چھوڑ کر دوسری کرنسیوں کے ساتھ تجارت کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ جبکہ بازار میں اشیاء لازمہ اور کم سے اوسط درجہ کی قیمت والی اشیائے صارفین اور ٹکاؤ جیزوں کی پہت زیادہ ضرورت ہے، بازار کے مخصوص حصے کی فی کس آمدنی بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے اعلی کوالٹی والی اشیاء کی اہم ضرورت بھی پیدا کردیتی ہے۔

عالمی معیشت کے ساتھ زیادہ مساوات پیدا کرنے کے لیے، 1995 میں کویت عالمی تجارتی تنظیم ﴿ڈبلو ٹی او﴾ کا رکن بن گیا۔ خطہ میں شرکاء کے ساتھ اچھے تجارتی رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے کویت نے کوششیں بھی کی ہیں۔ جنوری 2005 میں، کویت نے گریٹر عرب فری ٹریڈ ایریا ﴿جی اے ایف ٹی اے﴾ کے ارکان سے آنے والی برآمدات پر نظام صفر ٹیکس کو لاگو کرنا شروع کردیا۔ کویت جی سی سی کسٹم یونین کا رکن بھی ہے جس نے جی سی سی کے رکن والی ریاستوں کے مابین تمام طرح کے ٹیکسوں اور تجارتی رکاوٹوں کو ختم کردیا ہے۔

کویت امریکہ کے ساتھ مضبوط تجارتی رشتے قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ فروری 2004 میں، کویت نے امریکہ کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے فریم ورک معاہدے ﴿ٹی آئی ایف اے﴾ پر دستخط کیے۔ اس معاہدہ کو اقتصادی اصطلاحات کرنے اورامریکہ کے ساتھ اقتصادی رشتوں کو مضبوط کرنے اور حتمی طور سے آزاد تجارتی معاہدے ﴿ایف ٹی اے﴾ کی سمت کام کرنےکی جانب تجارت کے شرائط کو آزاد کرنے کے لیے پہلا قدم مانا جاتا ہے۔

کویت کے پاس تجاری سرگرمیوں کو چلانے کے لیے تین اہم قوانین ہیں، جو کہ قانون برائے تجارتی کمپنیاں ﴿1960/15﴾ اور اس کی تبدیلیاں، سیول کوڈ﴿1980/67﴾، اور کمرشیل کوڈ 1980/68﴾ ہیں، تمام فرانسی نیپولین کے کوڈ سے کافی متاثر ہیں۔ یہ تینوں قوانین سیول تعلقات، ، عام معاہدے کا قانون، بینکوں کے کام اور اقتصادی انسٹرومینٹس﴿ جس میں بلز آف ایکسچینج، چیک، اقراری نوٹ شامل ہیں﴾ کمرشیل اور دوسری ایجنسیوں، نقل و حمل اور اشیاء کی ذخیرہ اندوزی، دیوالیہ پن، تعمیر اور ٹھیکہ دینے جیسے امور کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بہت سے قانوانین خصوصی موضوعات جیسےٹیکس، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری، کرایہ کا معاہدہ، شہری اور کمرشیل امور سے نمٹنے کے لیے ہیں۔ بحری قانون بھی ہے، جو کہ بحری حقوق، جہاز کا رجسٹریشن، چارٹر فریقین، بحری بیمہ اور لوڈنگ کے بلوں جیسے امور کو محیط ہے۔